Why Micky Mouse Ghaddar, Tahir Qadri returned back to Pakistan ??? — مکی ماؤس غدار ، طاھر قادری – غدار پادری ، کیوں پاکستان واپس آیا

.

.

.

Tahir  Qadri

.

== ==

.

Ghaddar  Padri

.

.

.

.

.

Minhaj  Ka  Tahir

.

==

==

.

Ghaddari  Ka  Mahir

.

.

.

.

منہاج کا طاہر

غداری کا ماھر

.

.

.

.

Why Micky Mouse Ghaddar

Tahir Qadri — Ghaddar Padri — Christian Padri

returned back to Pakistan 

??????

.

.

.

.

.

http://farooqdarwaish.com/blog/?p=2477

.

.

.

.

.

الیکشن کے موسم کی آمد آمد ہے سو افلاک سیاہ ست کے تمام فصلی بٹیرے اور بندر بانٹ ایوانوں تک رسائی کے خواہش مند تمام برساتی مینڈک سیاسی کینوس پر نظر آنے لگے ہیں۔ لہذا اگلے نگران وزیر اعظم کی دوڑ میں شریک ادارہ منہاج القرآن کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بھی پانچ سال دیار غیر میں گوری گود کے مزے لوٹنے اور مغربی آقاؤں سے تمام تر ہدایات پانے کے بعد عظیم تر سامراجی پلان پر عمل درامد کیلئے کینڈا سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ احباب کیا تماشہ ہے کہ امریکی سامراج اور صلیبی اتحادی ایشیا اور مشرق وسطی میں اڈے قائم کرنے کیلئے سرگرم ہیں اور ان کے مفادات کے محافظ قوم فروش اپنے آقاؤں کے دیار میں سیاسی اڈے قائم کرنے کی روایات کے امین ہیں ۔ اس حوالے سے ہمارے ملکی سیاست دانوں، دانشوروں یا اسلام دشمن مذہبی گروہوں کے بیرون ملک اڈوں کی روایات بڑی پراسرار ہوتی جار رہی ہیں۔ بی بی بینظیر ہوں یا میاں نواز شریف، الطاف حسین ہو یا پرویز مشرف، سب کو گورے دیسوں میں اپنے سیاسی اڈے قائم کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح فتنہء قادیانیت ہو یا فتنہء گوہر شاہی، ان سب کو ولائیتی سرزمینوں پر ریڈ کارپٹ پلیٹ فارم فراہم کئے جاتے ہیں۔

.

.

طاہر القادری صاحب کا معاملہ بڑا عجیب ہے کہ نہ انہیں نواز شریف کی طرح جبری بے دخل کیا گیا اور نہ ہی بینظیر جیسے حالات کا سامنا تھا۔ نہ انہیں پرویز مشرف اور پیر الطاف حسین کی طرح خود ساختہ جلاوطن بننے کی ضرورت درپیش تھی اور نہ ہی قادیانی کلٹ کی طرح صلیبی پناہ درکار تھی۔ پھر خدا جانے وہ کون سی پر اسرار وجوہات یا پس پردہ حقائق تھے جن کی بنا پر طاہر القادری صاحب بھی اپنا وطن پاکستان چھوڑ کر پانچ سال سے تمام اسلام دشمن فتنوں کی آماجگاہ کینڈا میں مقیم تھے۔ سنا ہے کہ وہ کرسمس سے چند روز قبل کل رات گئے کینڈا سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔

.

.

کرسمس میں چند روز باقی ہیں سو شاید اس موقع پر وہ ایک بار پھر ادارہ منہاج القرآن میں کرسمس کا کیک کاٹ کر اپنے مغربی آقاؤں کی فرمابرداری کا حق ادا کرنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹرصاحب بھی دوسرے سیاست دانوں اور دانشوروں  جیسے شاہ سے بڑھ کر شاہ کے مصاحب ہیں اور اس حوالے سے غیر مسلموں سے حد سے زیادہ بھائی چارے کے فروغ کے کارن مختلف حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ لہذا سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں حج ٹرمینل کے ذریعے ایئرپورٹ سے باہر لایا گیا۔ خبریں ہیں کہ کل وہ ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ اپنے آئندہ کا لائحہ عمل بتائیں گے جس سے کسی حد تک واضع ہو پائے گا کہ کینیڈا میں رہ کر گذشتہ پانچ سال کی ولائتی تربیتی نشست میں انہوں نے کیا کچھ سیکھا اور کس بدیسی پلان یا صلیبی مشن کی تکمیل کیلئے ان کی مبارک آمد ہوئی ہے۔ بحرحال جو بھی ہو دو روز بعد 23 دسمبرکو مینار پاکستان پر منعقد کئے جانے والے عوامی جلسہ کے بعد صورت حال مذید واضع ہو جائے گی۔

.

.

میں زمانہء طالب علمی سے قادری صاحب کی تحریر و تقریر کا قاری و ناظر رہا ہوں اور خصوصاً قادیانیت کے خلاف علمی اور عملی جہاد کے حوالے سے ان کی دینی اور علمی خدمات کا دل سے معترف بھی ہوں۔ بلاشبہ فتنہء قادیانیت کی دجالی اسلام دشمن تحریک کیخلاف علامہ طاہر القادری کا مجاہدانہ کردار اور عالمانہ تحریک واجب التقلید ہیں سو میں فتنہء قادیانیے خلاف سرگرم اس مجاہد ختم نبوت کو پاکستان واپسی پر خوش آمدید کہتا ہوں مگر اپنی ہی تفسیرات قرآنی اور تشریحاتِ شریعت کے منافی ایک مٹھی سنتی داڑھی کو تراش کر روشن خیال اسلامی ڈیزائن دینے والے مفکر اسلام سے کچھ سوالات کا حق بھی محفوظ رکھتا ہوں۔

.

.

سوال یہ ہے کہ بیرون ممالک مہناج القرآن کے تنظیمی مراکز اور تبلیغی ٹیموں کی موجودگی کے باوجود وہ کون سی ناگریر دینی، سیاسی یا ذاتی وجوہات تھیں جن کی بنا پر وہ پانچ سالہ طویل عرصہ تک اس کینیڈین سرزمین پر مقیم رہے جہاں امریکی انتظامیہ اور مغربی اہلکاروں کے سرکاری و نیم سرکاری وفود متواتر ان سے پراسرار ملاقاتیں کرتے رہے۔ میں ان سے یہ سوال ہرگز نہیں کروں گا کہ وہ کس اسلامی شریعت کی بنا پر کرسمس کا غیر شریعی کیک کاٹنے کے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں یا کس اسلامی فلسفے کی بنیاد پر گرجا گھروں میں محافلِ میلاد کروانے کے غیر اسلامی فیشن کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں لیکن ہاں ایک عام پاکستانی ہونے کے ناطے ان سے یہ ضرور پوچھوں گا کہ تمام ذاتی مراعات اور ادارہ ء منہاج القرآن کیلئے زمینی قطعات اور مالی فنڈز کے حصول کے بعد انہوں نے اپنے ہر سیاسی و ذاتی محسن کی پیٹھ میں چھرا کیوں گھونپا۔

.

.

 میں ان سے یہ سوال بھی کروں گا کہ اس میں کیا راز ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن کے قریب اس پاکستان کو بچانے تشریف لائے ہیں جسے وہ انتہائی مشکل حالات میں اس وقت اکیلا چھوڑ کر گورے دیس کینیڈا میں مقیم ہو گئےتھے جب اس ملک و قوم کو ان جیسے “مخلص انقلابی لیڈر” کی اشد ضرورت تھی۔ بحرحال کوئی اختلاف کرے یا تائید مگر میرے ذرائع اور ناقص علم کے مطابق امریکی و مغربی آقاؤں کے پاکستان پلان کے مطابق اگلے نگران سیٹ اپ کے نگران وزیر اعظم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ہوں گے ۔ میرا دعوی ہے کہ وہ مغربی سامراج سے تمام تر سیاسی تربیت اور والہانہ آشیرباد پا کر ایک ہمہ گیر دجالی منصوبے کے تحت پاکستان تشریف لائے ہیں۔ پرویز مشرف کی طرح اول و آخر امریکی برانڈ روشن خیال اسلام کی تشہیر ان کا بنیادی مشن ہو گا۔ ہاں ڈاکٹر صاحب کا نیم گلابی امریکی اسلامی نسخہ یا روشن خیال انجکشن ان کے ہم نوالہ ہم پیالہ امریکی غلام سیاسی بھائیوں پرویز مشرف، زردارہ یا الطاف حسین کے نام نہاد لبرل اسلام سے تھوڑا مختلف ضرور ہو سکتا ہے مگر ان کا قبلہ و کعبہ یقیناً وائٹ ہاؤس اور قصر برطانیہ ہی ہو گا۔

.

.

.

Tahir Qadri’s

.

Prize Bond of Rs 25,000

.

.

.

 ڈاکٹر صاحب کے پرستاروں کو بتاتا چلوں کہ جب میں سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں میٹرک کا طالب علم تھا قادری صاحب اورینٹیل لا کالج میں سو روپے روزانہ کے عوض جزوقتی لیکچر دیا کرتے تھے،موصوف روزانہ میرے ایک بزرگ ایڈووکیٹ چوہدری لطیف راں مرحوم صاحب سےلفٹ لیکر نواز شریف مسجد ماڈل ٹاؤن جاتے تھے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہورکا طالب علم تھا تو سنتوں بھری شریعی داڑھی اورقراقلی ٹوپی والےمولوی طاہر القادری لا کالج کے باہر پرانی سوزوکی موٹر سائیکل کو ناکام ککیں مارتے یا دھکا لگوا کرسٹارٹ کرواتے دکھائی دیتے تھے۔اورپھرمیں نے ہی حبیب بینک کے آفیسرکی حیثیت سےادارہء منہاج القرآن میں واقع حبیب بنک برانچ میں ان کے پچیس ہزار روپے والے اس انعامی بانڈ کی انعامی رقم ڈھائی کروڑ روپے کے ووچرکو ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں کریڈٹ کیا تھا جو بانڈ ان کی ملکیت نہیں بلکہ کالا دھن سفید کرنے کیلئے بلیک مارکیٹ سے خریدا گیا گیا تھا۔

.

.

اورآج وہی سفید پوش طاہر القادری، کینیڈین شہریت رکھنے والا سامراجی مہمان، کھرب پتی مجتہدِ ملت حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری مدظلہ علیہ اورمستقبل کا ممکنہ نگران یا مستقل وزیراعظم ہے. آخری خبریں آنے تک” ڈاکٹر” کی ڈگری کی تصدیق بھی ابھی باقی ہے۔ اللہ اس ملک و قوم کو ننگ ملت شاعروں، ننگ تحریر ادیبوں، ننگ وطن دانشوروں اور ننگ دین مذہب فروش  مولویوں کے ہر بدرنگ شراور خوش رنگ فتن سے سدا محفوظ رکھے ۔۔۔

.

آمین ۔۔

.

فاروق درویش۔

.

.

.

.

.

.

.

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s